بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صاحبِ نصاب خاتون کے یتیم نابالغ بچوں کو زکاۃ دینے کا حکم

سوال

میری ایک بہن ہے جو بیوہ ہے اور صاحبِ نصاب ہے، کیا میں اپنی بیوی کی زکاۃ  اس کے نابالغ بچوں کو دے سکتا ہوں؟

جواب

آپ اپنی یا اپنی بیوی کی زکاۃ اپنی صاحبِ نصاب بہن کے یتیم نابالغ بچوں کو دے سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ سید نہ ہوں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 349):
"(و) لا إلى (طفله) بخلاف ولده الكبير وأبيه وامرأته الفقراء وطفل الغنية فيجوز؛ لانتفاء المانع.

(قوله: وطفل الغنية) أي ولو لم يكن له أب بحر عن القنية (قوله: لانتفاء المانع) علة للجميع والمانع أن الطفل يعد غنيا بغنى أبيه بخلاف الكبير فإنه لا يعد غنيًا بغنى أبيه ولا الأب بغنى ابنه ولا الزوجة بغنى زوجها ولا الطفل بغنى أمه ح في البحر". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200800
تاریخ22-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں