بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پرائز بانڈ کی انعامی رقم سے قرضہ ادا کرنا

سوال

اگر ہم نے قرضہ ادا کرنا ہو تو کیا ہم پرائز بانڈ کی انعامی رقم سے قرضہ ادا کر سکتے ہیں؟

جواب

پرائز بانڈ کی انعامی رقم  سود اور جوے کی حرام آمدنی ہے، جس کا صاحبِ حق تک لوٹانا یا بلا نیتِ ثواب صدقہ کرنا لازم ہے، اس سے اپنا قرضہ اتارنا یا کسی اور استعمال میں لانا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200795
تاریخ21-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں