بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شفاعت کون کون کرے گا؟

سوال

شفاعت کون کون کر سکتا ہے؟

جواب

قرآن کریم نے اثبات شفاعت کو دو اصولوں کےساتھ ذکر کیا  ہے۔

 پہلا یہ کہ شفاعت سے پہلےاذن الٰہی یعنی کسی کی شفاعت میں کلام کرنے سے پہلے اجازت خداوند ی حاصل ہو۔

دوسرایہ کہ شفاعت کرنے والے کا نہایت صادق و راست باز ہونا اور پوری معقول اور ٹھیک بات کہنا، ایسے شخص کی شفاعت کرنا جس کے حق میں شفاعت پر اللہ کی رضا بھی ہو۔

احادیثِ مبارکہ اور کتبِ عقائد کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ شفیع دو قسم کے ہوں گے:

ایک وہ اعمال جو اپنے کرنے والے کےلیے شفاعت کریں گے مثلا : نماز،  روزہ،  تلاوت کلام اللہ وغیرہ  اعمال روز قیامت صرف شفاعت ہی نہیں، بلکہ حجت ہوں گے۔

دوم اشخاص جیسے انبیاءِ کرام علیہم السلام، اولیاءِ کرام ، وعلماء وشہداء ، وفقراء کی شفاعت اللہ رب العزت اپنے رحم وکرم سے قبول فرمائیں گے۔حفاظ کرام، حجاج  اپنے اپنے متعلقین کی شفاعت کریں گے،  نابالغ بچے جو مر گئے ہیں اپنے ماں باپ کی شفاعت کریں گے ۔ اسی عام ایمان والے بھی آخر میں سفارش کریں گے۔ اور بعض احادیث میں ہے کہ فرشتے بھی سفارش کریں گے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200794
تاریخ21-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں