بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک بچے کا دو مرتبہ عقیقہ کرنا

سوال

کیا ایک بچے کا عقیقہ دو مرتبہ ہوسکتا ہے? مثلاً ایک ننھیال اور ایک ددھیال کی طرف سے۔

جواب

عقیقہ شرعاً  ایک ہی مرتبہ ثابت ہے، اگر بچہ ددھیال میں ہے تو وہیں عقیقہ کرنا بہتر ہے، اگر ننھیال میں ہے تو ننھیال میں بہتر ہے؛ تاکہ جانور ذبح کرنے اور بال اتروانے کا کام ایک ہی جگہ انجام پائے۔ ( عقیقہ انسائیکلو پیڈیاص 86) باقی اگر دو مرتبہ کرنا چاہیں تو شرعاً  ممانعت یا حرج نہیں ہے، کیا جاسکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200792
تاریخ21-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں