بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قیلولہ کا سنت طریقہ کیا ہے؟

سوال

’’قیلولہ‘‘  کا سنت طریقہ کیا ہے؟

جواب

’’قیلولہ‘‘ کے معنی ہیں: دوپہر کے کھانے سے فارغ ہونے کے بعد لیٹنا، خواہ نیند آئے یا نہ آئے. ( عمدۃ القاری للعینی)

’’قیلولہ‘‘  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا معمول رہا ہے، آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’دن کے سونے کے ذریعے رات کی عبادت پر قوت حاصل کرو‘‘. (شعب الایمان للبیہقی)  نیز دوپہر کو سونا عقل کی زیادتی اور کھانے کے ہضم کا باعث بھی ہے.

روایات سے صحابہ رضی اللہ عنہم کا عام معمول ’’غداء ‘‘ کے بعدسونے کا ملتا ہے،’’غداء ‘‘ دوپہر کا کھانا ہے جو ظہرسے پہلےکھایا جاتاہے. البتہ جمعہ کے دن سے متعلق روایات میں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جمعہ کی نماز کے بعد کھانا کھاتے تھے اور اس کے بعد ہی قیلولہ کرتے تھے۔

اس زمانے میں جمعہ کے علاوہ باقی دنوں میں دوپہر کا کھانا ظہر سے پہلے کھانے کا معمول تھا، اس لیے بہتر تو یہی ہے کہ ظہر سے پہلے کھانا کھا کر قیلولہ کی عادت بنائی جائے۔ البتہ ظہر کے بعد کھانا کھا کر قیلولہ کی نیت سے لیٹنے سے بھی قیلولہ کی سنت پوری ہوجائے گی۔

سنن الدارقطني (2/ 20):
"عن سهل بن سعد قال : كنا نصلي مع النبي صلى الله عليه و سلم الجمعة ثم تكون القائلة بعد".
   فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

کیا قیلولہ سنت ہے؟ اور قیلولہ کا وقت کیا ہے؟

قیلولہ کی سنت

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200756
تاریخ21-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں