بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جائز آمدنی والے کے لیے ناجائز آمدنی والے کے ساتھ رہنا

سوال

میں اسلام آباد میں رہتا ہوں اور میرے جو روم پارٹنر ہے ۔تینوں خوش حالی بینک میں جاب کرتے ہیں۔ تو کیا میرے لیے اسں کے ساتھ رہنا جائز ہے؟اور ایک ساتھ کھانا پینا جائز ہے؟

جواب

بینک کی آمدن میں سود اور ناجائز منافع سے ہوتی ہے، نیز سودی اور ناجائز معاملات میں تعاون بھی ہوتا ہے۔ اس لیے بینک کی ملازمت جائز نہیں ہے،اور اس ملازمت سے ملنے والی آمدن حرام ہے۔ان کو کسی جائز ذریعہ سے ملازمت تلاش کرنی چاہیے۔

باقی حرام آمدنی والوں کے ساتھ کھانے وغیرہ کے اخراجات میں شراکت داری کرنا جائز نہیں۔ آپ دوسری جگہ تلاش کریں،  جب تک نہ ملے، انہیں حکمت سے سمجھا کر اپنا کھانا پینا علیحدہ رکھیں، یا اگر وہ کسی جائز آمدنی والے سے قرض لے کر شامل ہوتے رہیں، تو آپ کا کھانا جائز ہوجائےگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200734
تاریخ20-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں