بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا غیر مسلم کا پسینہ ناپاک ہے؟

سوال

میں جس سکول میں پڑھتا ہوں، وہاں میری جماعت کا ایک لڑکا جو میرا دوست ہے وہ عیسائی مذہب سے تعلق رکھتا ہے، ہم سب ایک ساتھ  بیٹھتے  ہیں تو  کیا اُس کا پسینہ لگنے سے غسل واجب ہوگا یا نہیں؛ کیوں کہ گرمی میں ساتھ کھیلتے ہیں تو ہاتھ وغیرہ لگ جاتا ہے؟  اور کیا اُس کی ہاتھ لگی ہوئی چیز کھا سکتے ہے یا نہیں؟  اُس کا جھوٹا پی سکتے ہے یا نہیں؛ کیوں کہ وہ ہمارا ہاتھ لگاہوا کھا تا بھی ہے اور جھوٹاپیتا بھی ہے ؟

جواب

غیر مسلم انسان کا پسینہ ناپاک نہیں، لہذا مذکورہ طالب علم کے ساتھ بیٹھنے کے نتیجہ میں مسلمان  کے جسم میں نجاست سرائیت نہیں کرے گی،  نہ غسل واجب ہوگا اور نہ ہی وضو۔  نیز اس کے  ساتھ  کھانے  پینے کی (خواہ اس کا ہاتھ لگی ہوئی چیز  ہو یا  اس کا جوٹھا ہو، کھانے پینے) کی گنجائش ہے۔ البتہ غیر مسلم سے دلی دوستی منع ہے، اس کے ساتھ تعلق رکھنے میں اس کی ہدایت اور اسلام کی طرف مائل کرنے کی نیت رکھیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200686
تاریخ18-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں