بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ کی رقم سے مدرسہ تعمیر کرنا

سوال

زکاۃ کے پیسوں سے مدرسہ تعمیر کرنا کیسا ہے؟

جواب

زکاۃ کی ادائیگی صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ زکاۃ کی رقم مستحقِ زکاۃ فرد کو مالک بناکر دے دی جائے، اور تعمیرات میں چوں کہ کسی فرد کو مالک بنانا نہیں پایا جاتا؛ لہٰذا زکاۃ کی رقم سے مدرسہ مسجد، اسپتال، یا دیگر کوئی بھی فلاحی ادارہ قائم کرنے سے زکاۃ ادا نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200685
تاریخ18-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں