بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شکار والا  پرندہ اگر  مار دیا جائے پھر اس کاذبح کیا جائے گا یا اسی طرح  کھالیا جائے گا؟

سوال

شکار والا  پرندہ اگر  مار دیا جائے پھر اسے ذبح کیا جائے گا یا اسی طرح  کھالیا جائے گا؟

جواب

شکار کیا ہوا پرندہ اگر ایسی حالت میں مل جائے کہ اس میں زندگی باقی ہو اور اس  کو ذبح کرنا ممکن ہو  تو ایسی حالت میں اس کا ذبح کرنا ضروری ہے، اگر ذبح نہ کیا تو اس کا کھانا حلال نہ ہو گا اور اگر ذبح کرنا ممکن نہ ہو تو بغیر ذبح کے اس کا کھانا حلال ہو گا بشرطیکہ دھاری دار آلے سے اس کا شکار کیا گیا ہو اور تیر وغیرہ پھینکتے ہوئے بسم اللہ پڑھی جائے۔

واضح رہے کہ بندوق کی گولی سے کیا ہوا شکار اگر ذبح سے پہلے مرجائے تو چوٹ سے مردار شمار ہوگا،  اضطراری ذبح کے تحت داخل ہوکر حلال نہیں ہوگا۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 51):
"وقال أصحابنا - رحمهم الله -: لو جرحه السهم أو الكلب فأدركه لكن لم يأخذه حتى مات فإن كان في وقت لو أخذه يمكنه ذبحه فلم يأخذه حتى مات لم يؤكل؛ لأن الذبح صار مقدورًا عليه فخرج الجرح من أن يكون ذكاةً، وإن كان لايمكنه ذبحه أكل".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200617
تاریخ16-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں