بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 جُمادى الأولى 1448ھ 27 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرابحہ / میزان بینک سے قرض

سوال

1 : مرابحہ کیا ہے؟

2 : کیا میزان بینک سے قرض لے سکتے ہیں؟

جواب

1: کسی چیز کو قیمتِ خرید کی بہ نسبت نفع کے ساتھ فروخت کرنے کو ’’مرابحہ‘‘  کہتے ہیں۔

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (7 / 3):
’’المرابحة بمثل الثمن الأول وزيادة‘‘.

2 :  ہماری تحقیق کے مطابق میزان بینک سمیت مروجہ اسلامی بینکوں میں سے کوئی بینک بھی مکمل طور پر اسلامی نہیں ہے،  بلکہ کچھ نہ کچھ سقم ہر بینک کے معاملات میں باقی رہ جاتا ہے؛  اس لیے کسی بھی بینک سے قرضہ لینے کی صورت میں سود کا معاہدہ کرنا پڑتا ہے گو وہ کسی دوسرے نام سے کیا جاتا ہو، اس لیے کسی بینک سے قرضہ لینا جائز نہیں ہے، لہذا اگر قرض لینا ہی ہو تو بینک کے علاوہ کسی اور  سے غیرسودی قرضہ حاصل کر لیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200611
تاریخ16-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں