بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تبلیغی جماعت سفر میں قصر کرے یا اتمام؟

سوال

تبلیغی جماعت ہمارے یہاں آتی ہے، ان کی تشکیل بیس یا تیس دن کی ہوتی ہے، تقریباً بیس کلومیٹر کے اندر تشکیل پوری ہوجاتی ہے، کیا ان کی نماز قصر ہوگی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں سائل نے علاقہ  کی وضاحت نہیں کی  ہے، لہذا سائل کا علاقہ اگر  شہر ہو اوراُس میں تبلیغی جماعت کی تشکیل بیس یاتیس دن  کےلیے ہو تو اُس شہر   میں وہ مقیم  شمار ہوں گے اور پوری نماز پڑھیں گے،  خواہ انفرادی نماز پڑھیں یا جماعت کے ساتھ، ان کےلیے قصر پڑھناجائز  نہیں ہوگا۔ اگر مختلف گاؤں میں تشکیل ہو تو  پھر قصر نماز پڑھنی ہوگی۔

"و وطن الإقامة ما ینوي فیه الإقامة خمسة عشر یوماً فصاعداً ولم یکن مولده له لا له به أهل". (حلبي کبیر ۵۴۴، الهندیة ۱؍۱۴۲ بدائع الصنائع، زکریا ۱؍۲۸۰)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200568
تاریخ14-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں