بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کے انتقال کے بعد عدت نہ گزاری ہو تو چار سال بعد اس کی قضا کا حکم

سوال

ایک عورت کے شوہر کا انتقال ہوا تو اس نےکسی مجبوری کی وجہ سے اس وقت عدت نہیں کی، اب چار  سال ہو چکے ہیں، کیا اب عدت کرسکتےہیں?

جواب

جس عورت کے شوہر کا انتقال ہوجائے اس پر شوہر کے انتقال کے  دن سے چار مہینہ دس دن عدت گزارنا لازم ہے، اور شوہر کے انتقال کے وقت سے ہی خود بخود اس کی عدت شروع ہوجاتی ہے،  اگر اس نے عدت کی پابندیوں کی رعایت نہیں کی تو وہ گناہ گار ہوگی، چار مہینہ دس دن گرجانے کے بعد  عدت خود بخود مکمل ہوجائے گی، لہذا مذکورہ عورت کے لیے اب چار سال بعد عدت میں بیٹھنے سے اس کی عدت کی تلافی نہیں ہوگی، اس کو چاہیے کہ عدت کے احکام کی رعایت نہ کرنے پر صدق دل سے اس گناہ پر توبہ واستغفار کرے ۔

الفتاوى الهندية (1/ 531):
"ابتداء العدة في الطلاق عقيب الطلاق، وفي الوفاة عقيب الوفاة، فإن لم تعلم بالطلاق أو الوفاة حتى مضت مدة العدة فقد انقضت عدتها، كذا في الهداية. وإن شكت في وقت موته فتعتد من حين تستيقن بموته، كذا في العتابية". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200485
تاریخ12-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں