بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طالبہ کے لیے حالتِ حیض میں قرآن کا پڑھنا

سوال

جولڑکی قرآنِ پاک حفظ کررہی ہو، یا معلمہ پڑھا رہی ہو، اس کے لیے حیض کے دوران کیا حکم ہے؟ اگر ان دنوں میں وہ چھٹیاں کرتی ہیں تو پڑھائی کا نقصان ہے؟ جواب ارشاد فرمائیں!

جواب

دورانِ حیض عورت کے لیے قرآنِ کریم کی تلاوت منع ہے۔البتہ تعلیمی ضرورت کی وجہ سے ایک آیت کی مقدار سے کم پڑھ کرسانس چھوڑ دینے کی حد تک فقہاءِ کرام نے اجازت لکھی ہے، لہٰذا معلمہ طالبات کو پڑھائے یا خود طالبہ پڑھے تو ایک ایک کلمہ پڑھ کر سانس توڑ دیا کرے۔ دوسری صورت فقہاءِ کرام نے یہ لکھی ہے کہ کسی پاک کپڑے سے قرآنِ مجید کو پکڑے اور اس میں دیکھ کر، زبانی تلفظ کے بغیر دل دل میں قرآنی آیات دہراتی رہے۔

مذکورہ دو صورتوں میں سے کوئی ایک اختیار کرنے سے تعلیمی حرج پر قابو پایا جاسکتاہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200435
تاریخ11-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں