بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امتحانات میں نقل کرنے کا حکم

سوال

کیا دنیاوی علوم کے امتحان میں نقل کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

نقل کرنا ضابطہ کے خلاف عمل اور دھوکا دہی کے زمرے میں داخل ہے، جس کی شرعاً اجازت نہیں، چاہے دنیاوی علوم کے سلسلے میں ہو۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200387
تاریخ09-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں