بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 جُمادى الأولى 1448ھ 27 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دس لاکھ کا قرضہ تیس سال بعد ادا کرنے کی صورت میں قیمت کا حساب

سوال

 ایک آدمی نے 30 سال قبل 10 لاکھ کا قرض دیا, جب واپسی کا وقت آیا مقروض ٹالتا رہا,  اب 30 سال بعد قرض لوٹانا چاہتا ہے تو مقروض پر کون سی قیمت واجب الادا  ہوگی؟

جواب

قرض کی ادائیگی کا ضابطہ یہ ہے کہ جتنا قرض دیا جائے اس کے مثل ہی واپس لیا جائے، کرنسی کی ویلیو  کم ہونے کی وجہ  سے قرض دی ہوئی رقم کی واپسی پر اضافی رقم کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا، لہذا صورتِ مسئولہ میں  مذکورہ شخص نے تیس سال پہلے دس لاکھ روپے قرض لیا تھا تو اب تیس سال بعد بھی ادائیگی کے وقت اس کے ذمہ دس لاکھ روپے ہی لازم ہوں گے۔

"تنقیح الفتاوی الحامدیة"میں ہے:

"الدیون تقضیٰ بأمثالها". (کتاب البیوع، باب القرض، ج؛۱ ؍ ۵۰۰ ، ط:قدیمی)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"و في الأشباه: کل قرض جر نفعاً حرام". (کتاب البیوع، فصل فی القرض، ج:۵ ؍ ۱۶۶ ، ط:سعید ) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200379
تاریخ09-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں