بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والدہ، بیوہ اور ایک بیٹی میں ترکے کی تقسیم

سوال

ترکہ ۱۸۰۰۰۰ ہے،  ماں بیٹی اور بیوی کو کتنا کتنا ملے گا?

جواب

صورتِ مسئولہ میں میت کی جائیداد کی تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے کہ اولاً مرحوم کے ترکہ میں سے ان کی  تجہیز و تکفین کے اخراجات اور قرضہ جات کی ادائیگی کی جائے پھر اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو نافذ کیا جائے ، اس کے بعد مرحوم کے کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو  32 حصوں میں تقسیم کر کے بیوہ کو 4 حصے، والدہ کو 7 حصے اور بیٹی کو 21 حصے ملیں گے۔

یعنی 180000 میں سے 22500 روپے بیوہ کو، 39375 روپے والدہ کو اور 118125 روپے بیٹی کو ملیں گے۔

یہ تقسیم اس صورت میں ہے جب کہ مرحوم کے والد، دادا، بیٹے، پوتے، بھائی، بھتیجے، چچا اور چچا زاد بھائی میں سے کوئی نہ ہو، اگر ان میں سے کوئی موجود ہو گا تو تقسیم مختلف ہو گی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200366
تاریخ09-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں