بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہوٹل میں شراب اور دیگر حرام اشیاء فروخت ہوتی ہوں تو وہاں ملازمت کا حکم

سوال

 ایسے ہوٹل میں کام کرنا جس میں شراب پینےوالےاور نافذکرنےوالے اورغیرمسلم لوگ آتےجاتےہوں، میٹنگ کرتے ہوں، ایسے ہوٹل میں چوکیداری کرنا یا اور کوئی ملازمت کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر  مذکورہ ہوٹل کی غالب آمدنی حلال ہو تو  اس میں ایسے شعبہ میں ملازمت کرنا جس میں براہِ راست حرام کام میں شمولیت نہ ہوتی ہو،  (مثلاً شراب پیش کرنا، یا اسے اٹھا کر منتقل کرنا وغیرہ نہ کرتاہو تو یہ ملازمت)شرعاً جائز ہے،  اور اس کی آمدنی حرام نہیں ہے، البتہ اگر ایسی جگہ ملازمت مل جائے جس جگہ ایسی حرام اشیاء نہ ہوں تو  یہاں ملازمت ترک کرکے وہاں ملازمت کی کوشش کرنی چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200328
تاریخ08-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں