دوسرے شہر میں زکاۃ وصول کرنے کا وکیل بنانا
سوال
کیا کوئی زکاۃ کا مستحق بندہ کسی دوسرے شہر میں کسی کو زکاۃ وصول کرنے کے لیے اپنا وکیل بنا سکتا ہے؟
جواب
اگر ایک شخص مستحقِ زکاۃ ہو اور اس کو زکاۃ دینے کا ارادہ رکھنے والا کسی دوسرے شہر میں ہو تو مستحقِ زکاۃ کے لیے جائز ہے کہ وہ اُس شہر میں کسی آدمی کو زکاۃ وصول کرنے کے لیے وکیل بنا دے، پھر وکیل زکاۃ پر قبضہ کر کے مستحق تک پہنچا دے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144104200305
تاریخ07-12-2019

