بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

black friday یا blessed     friday    sale کی سیل سے خریداری کرنا

سوال

بلیک فرائیڈے میں سیل لگتی ہے،  اور اب لوگوں نے اس کے مقابلے میں  آج کل مارکیٹوں میں blessed    friday    sale کے نام سے سیل لگائی ہے ۔ان مارکیٹوں سے خریداری کا کیا حکم ہے؟

جواب

جمعہ کا دن حدیث شریف کے مطابق تمام ایام کا سردار اورنہایت مبارک دن ہے، یہ دن مسلمانوں کی عبادت کے لیے مخصوص ہے،اس دن کے ادب واحترام اور تعظیم کا مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے، جمعے کو محتمل وجوہات کی بنا  پر  ’’سیاہ دن‘‘ کہنا(قطع نظر  اس بات کے کہ اس کی بنیاد کیاہے) جمعے کے ادب اور اس کی تعظیم کے خلاف ہے۔

بلیک فرائیڈے غیرمسلموں کاایک معاشرتی اور ثقافتی دن ہے اور مسلمانوں کو جس طرح غیر مسلموں کے مذہبی تہوار و  ایام میں شریک ہونے اور انہیں رائج کرنے اجازت نہیں، اسی طرح ان کی اقتدا  میں ان کی معاشرت اور غیراسلامی ثقافت سے بچنے  کا حکم دیاگیاہے۔ اس لیے غیر مسلموں کے مروج تہواروں کو فروغ دینے اور ان سے فائدہ اٹھانے سے احتراز کرنا ہی بہتر معلوم ہوتا ہے۔  بہر حال! اگر کوئی اس سیل سے خریداری کر لیتا ہے تو  اس کو حرام نہیں کہا جائے گا۔

غیر مسلموں کے اس تہوار  کے بالمقابل موجودہ زمانہ میں بعض لوگوں نے  blessed     friday    sale (جمعہ مبارک سیل) یا white friday sales کے نام سے جو اشیاء کی قیمتیں کم کی جاتی ہیں یہ درست ہے ، اور ان ناموں سے لگنے والی سیل  میں سے اشیاء کی خریداری درست ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200295
تاریخ07-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں