بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

pubg کا حکم/ زکاۃ کے پیسے نکالے لیکن ادا کرنے سے پہلے خرچ ہوگئے

سوال

1: کیا pubg گیم کھیلنا حرام ہے؟

2: اگر کسی بندے نے پچھلے سال زکاۃ کے  پیسے نکالے ہوں،  لیکن وہ اس سے خرچ ہوگئے ہوں تو اس کے لیے شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

1:  pubg گیم کھیلنا ناجائز ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو :

pubg گیم کھیلنے کا حکم

2:  پچھلے سال کی زکاۃ  کی جو رقم ذاتی کاموں میں خرچ کر لی، اتنی ہی رقم اب کسی مستحقِ زکاۃ کو دے دے. فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200294
تاریخ07-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں