بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک مسجد میں تراویح کی کئی جماعتیں ہونا

سوال

رمضان میں ایک مسجد میں تراویح کی ایک سے زیادہ جماعت کرنا کیسا ہے چاہے اوپر نیچے کی منزل ہو یا آواز ٹکرائے یا نہ ٹکرائے؟

جواب

اگر مسجد اتنی بڑی ہو کہ تراویح کی مختلف جماعتیں ہورہی ہوں اور تراویح پڑھنے والے ائمہ کی آوازیں نہ ٹکرا رہی ہوں تو ایسی صورت میں ایک مسجد میں ایک سے زائد تراویح کی جماعتیں ہوسکتی ہیں، البتہ اگر ائمہ کی آوازیں ٹکرائیں تو  ایسی صورت میں مسجد میں تراویح کی ایک ہی جماعت کی جائے۔

تاہم پہلی صورت میں بھی بہتر یہی ہے کہ مسجدِ شرعی کی حدود میں تراویح کی ایک ہی جماعت کرائی جائے، اگر حفاظِ کرام زیادہ ہوں اور ان کے دور اور قرآنِ مجید کی پختگی کی مصلحت پیشِ نظر ہو تو مسجدِ شرعی سے باہر مسجد کے احاطے میں (مدرسے یا حجرے وغیرہ میں) تراویح کی مختلف جماعتیں کرلی جائیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200290
تاریخ07-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں