بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رحم نکالنے کے بعد آنے والے خون کا حکم

سوال

ایک عورت کے رحم میں زخم ہوگیا تھا، تو ڈاکٹروں نے اس کے رحم کو نکال دیا، لیکن پھر بھی اس عورت کو مستقل خون آتا ہے ،اس خون کا حکم مکمل تفصیل اور دلیل کے ساتھ ذکر فرمادیں!

جواب

جس خاتون کے رحم میں زخم ہوگیا تھا اور ڈاکٹروں نے اس رحم کو نکال دیا،  پھر بھی اس عورت کو مستقل خون آتا ہے تو یہ خون حیض کا نہیں، استحاضہ کا خون ہے، اس کی وجہ سے نماز، روزہ، قرآن کی تلاوت وغیرہ کرنا حرام نہیں ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1 / 283):

"(هو) لغةً: السيلان. وشرعًا: على القول بأنه من الأحداث: مانعية شرعية بسبب الدم المذكور. وعلى القول بأنه من الأنجاس (دم من رحم) خرج الاستحاضة، ومنه ما تراه صغيرة وآيسة ومشكل (لا لولادة) خرج النفاس".  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200248
تاریخ05-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں