بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سورج یا چاند گرہن کے حاملہ عورت پر اثرات کی حقیقت

سوال

کیا حاملہ عورتوں پر سورج اور چاند گرہن کے کوئی اچھے یا برے اثرات ہوتے ہیں؟ کیا گرہن کے وقت حاملہ عورت کا باہر نکلنا منع ہے؟

جواب

واضح رہے کہ سورج گرہن یا چاند گرہن کے وقت مسلمانوں کو اصل حکم یہ ہے کہ اللہ کی طرف متوجہ ہوں، اور یہ حکم مردوں اور عورتوں (جن میں حاملہ عورتیں بھی ہیں) سب کے لیے ہے۔ باقی حاملہ عورت پر گرہن کے اچھے یا برے  اثرات ہونے کا یا اس وقت میں باہر نکلنے کی ممانعت کا شرعی طور پر کوئی ثبوت نہیں؛ لہذا ایسا عقیدہ رکھنا ناجائز ہے۔ 

اغلاط العوام میں ہے :

’’مشہور ہے کہ چاند اور سورج کے گہنے کے وقت کھانا پینا منع ہے، سو اس کی بھی کوئی اصل نہیں۔ البتہ وہ وقت توجہ الی اللہ کا ہے، اس وجہ سے کھانے پینے کا شغل ترک کردینا اور بات ہے۔ رہا یہ کہ دنیا کے تمام کاروبار، بلکہ گناہ تک تو کرتا رہے اور صرف کھانا پینا چھوڑ دے، یہ شریعت کو بدل ڈالنا اور بدعت ہے‘‘۔ (ص ۱۹۱، زمزم پبلشرز) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200243
تاریخ05-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں