بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جھینگے کا حکم

سوال

جھینگا کھانا حرام یا مکروہ؟

جواب

جھینگے کی حلت اورحرمت کی بنیاد اس بات پرہے کہ یہ مچھلی ہے یا نہیں، جولوگ اس کو مچھلی قراردیتے ہیں وہ اس کی حلت کے قائل ہیں اورجولوگ اس کو مچھلی قرارنہیں دیتے وہ اس کی حرمت کے قائل ہیں۔ ماہرینِ علمِ لغت اورعلمِ حیوانات کے ماہرین اس کو مچھلی قراردیتے ہیں، اوراکثرعلماء کی رائے بھی یہی ہے، ہمارا بھی یہی موقف ہے؛ لہٰذا کھاناحلال ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144104200222
تاریخ04-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں