بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مینا حلال ہے یا حرام؟

سوال

مینا  کھانا حلال ہے کہ حرام؟

جواب

 پرندوں کے حلال یا حرام ہونے کا مدار اس بات پر ہے کہ  جو پرندہ  اپنے پنجوں سے شکار  کرتا ہو وہ حرام ہے اور جو اپنے پنجوں سے شکار  نہ کرتا ہو وہ حلال ہے، مینا حلال پرندوں میں شامل ہے، لہذا اسے کھانا جائز ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وَالطَّيْرِ وَهُوَ كُلُّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ وَكُلُّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ؛ لِمَا رُوِيَ فِي الْخَبَرِ الْمَشْهُورِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ  صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ «نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ» ... وَ مَا  لَا مِخْلَبَ لَهُ مِنْ الطَّيْرِ فَالْمُسْتَأْنِسُ مِنْهُ كَالدَّجَاجِ وَالْبَطِّ وَالْمُتَوَحِّشُ كَالْحَمَامِ وَالْفَاخِتَةِ وَالْعَصَافِيرِ والقبج وَالْكُرْكِيِّ وَالْغُرَابِ الَّذِي يَأْكُلُ الْحَبَّ وَالزَّرْعَ وَالْعَقْعَقِ وَنَحْوِهَا حَلَالٌ بِالْإِجْمَاعِ". (٥ / ٣٩) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144104200210
تاریخ04-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں