بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر کوئی  شخص یہ کہے کہ جب بھی میں قھقھے کی ساتھ ہنسوں تو مجھ پر بیس روپے لازم کہنے کا حکم

سوال

اگر کوئی  شخص یہ کہے کہ جب بھی میں قہقہے کے ساتھ ہنسوں تو مجھ پر بیس روپے لازم ہیں، پھر اس نے کسی مفتی صاحب سے پوچھا، انہوں نے کہا: یہ نذر واقع نہیں ہوئی۔  پھر چار سال کے بعد اس کو خیال آیا کہ ہوسکتاہے  مفتی صاحب نہ سمجھے ہوں،  اب وہ پوچھتا ہے کہ کیا مجھے ان سب قہقہوں کے بیس بیس روپے ادا کروں گا، جو چار سال میں لگے ہیں، حال آں کہ مجھے تعداد بھی معلوم نہیں  اور  قہقہہ بھی غیر اختیاری چیز  ہے۔

جواب

اگر کوئی شخص یہ کہے کہ  ’’جب بھی میں قہقہے کے ساتھ ہنسوں تو مجھ پر بیس روپے لازم ہیں‘‘  تو ایسے شخص پر لازم ہے کہ وہ ہر قہقہہ کے بدلہ بیس روپے صدقہ کرے، اگر گزشتہ عرصہ میں قہقہوں کی تعداد یاد نہیں ہے تو تخمینہ کے ذریعہ ایک تعداد ذہن میں رکھ کر اس کے حساب سے رقم ادا کرے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200202
تاریخ04-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں