بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک وقت میں مستحق کو کتنی زکاۃ دی جا سکتی ہے؟

سوال

ایک وقت میں مستحق کو کتنی زکاۃ دی جا سکتی ہے؟

جواب

شریعتِ مطہرہ میں زکاۃ  دینے کے  لیے کوئی مخصوص مقدار متعین نہیں، البتہ کسی غریب کو ضرورت کے بغیر اتنی رقم دینا کہ وہ خود صاحبِ نصاب بن جائے مکروہ ہے، البتہ زکاۃ ادا ہوجائے گی، اور اگر کسی مستحق کو ضرورت  کی وجہ سے نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ رقم دی جائےتو مکروہ نہیں ہوگا، بلاکراہت زکاۃ ادا ہوجائے گی۔ اور جب مستحق کے پاس نصاب کے بقدر رقم جمع ہوگئی تو وہ مستحق نہیں رہے گا، اس صورت میں موجودہ رقم کے خرچ ہونے، اور دوبارہ مستحق بننے سے پہلے زکاۃ دینا درست نہیں ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 353):
"(وكره إعطاء فقير نصاباً) أو أكثر (إلا إذا كان) المدفوع إليه (مديوناً أو) كان (صاحب عيال) بحيث (لو فرقه عليهم لايخص كلا) أو لايفضل بعد دينه (نصاب) فلايكره، فتح".
  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200199
تاریخ04-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں