بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، ایک بیٹے اور چار بیٹیوں کے درمیان میراث کی تقسیم

سوال

والد صاحب کی متروکہ گیارہ لاکھ  کی رقم میں سے میرا میری چار بہنوں اور ماں کا کتنا حصہ بنتا ہے؟

جواب

گیارہ لاکھ روپے کو  48 حصوں میں تقسیم کر کے اس میں سے 6 حصے آپ کی والدہ کو، 14 حصے آپ کو اور  7  حصے آپ کی ہر ایک بہن کو ملیں گے، یعنی گیارہ لاکھ روپے میں سے ایک لاکھ سینتیس ہزار پانچ سو (137,500) روپے آپ کی والدہ کو، تین لاکھ بیس ہزار آٹھ سو تینتیس روپے تینتیس پیسے (320,833.33) آپ کو اور  ایک لاکھ ساٹھ ہزار چار سو سولہ روپے سڑسٹھ پیسے (160,416.67) آپ کی ہر ایک بہن کو ملیں گے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200139
تاریخ03-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں