بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی اور سے رپورٹ لکھوا کر یونیورسٹی میں جمع کرانا اور ڈگری حاصل کرنا

سوال

زید ایک یونیورسٹی کا طالب علم ہے۔ اسے اس کی ڈگری کی بنیاد پر ایک دوسری یونیورسٹی کی طرف سے یہ پیشکش ہے کہ اگر وہ ایک مطلوبہ موضوع پر ایک رپورٹ لکھتا ہے تو اسے اس دوسری یونیورسٹی کی طرف سے بھی ایک ڈپلومہ ڈگری دی جائے گی۔ زید یہ رپورٹ خود نہیں لکھتا، بلکہ عمرو سے لکھواتا ہے اور یونیورسٹی میں اپنے نام سے جمع کرواتا ہے، اور عمرو اس کے بدلے رپورٹ لکھنے کے پیسے لیتا ہے۔ اب جاننا یہ ہے کہ:

1) کیا زید کے لیے اس طرح کسی اور سے پورٹ لکھوا کر اپنے نام سے جمع کروانا جائز ہے؟

2) کیا عمرو کے لیے یہ رپورٹ لکھنا جائز ہے؟

3) کیا عمرو نے رپورٹ لکھنے کے بدلے جو پیسے وصول کیے ہیں، وہ استعمال کرنا اس کے لیے جائز ہے؟

جواب

مذکورہ طریقہ پر رپورٹ لکھوا کر اپنے نام سے یونیورسٹی میں جمع کرانا اور اس کی بنیاد پر ڈگری حاصل کرنا، دھوکا دہی اور  فریب کے زمرے میں داخل ہے، جس کی وجہ سے 

1۔ زید کے لیے کسی اور سے رپورٹ لکھوا کر اپنے نام سے جمع کرانا اور اس پر ڈگری حاصل کرنا جائز نہیں۔

2۔ جانتے بوجھتے عمر کے لیے گناہ کے کام میں معاونت کی شرعاً اجازت نہیں۔

3۔ عمرو کی اجرت حلال طیب نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200125
تاریخ02-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں