بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دادا کا اپنی مملوکہ جائیداد کی ملکیت پوتوں کے نام منتقل کرنے کا حکم

سوال

اگر ایک آدمی اپنی ملکیت اپنی ہی حیاتی میں اپنے بیٹے کے کہنے پے اپنے پوتوں کے نام کرے اور سرکاری کاغذات میں داد کی حیاتی میں ہی پوتوں کی طرف ملکیت منتقل ہو چکی ہو، اب دادا کی وفات کے بعد کیا وہ ملکیت اسی حالت پے رہے گی یا ’’أنت و مالك لأبیك‘‘ کے فرمان کے موجب پھر وہ ملکیت باپ کی طرف منتقل ہوگی؟ یہ بات پھر  نوٹس میں لاتا ہوں کہ  دادا نے اپنے بیٹے کے کہنے پر پوتوں کو ملکیت لکھ کے دی ہے؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص نے اپنی مملوکہ جائیداد اپنی زندگی میں ہبہ کی نیت سے پوتوں کے نام کردی تھی اور پوتوں کو اپنی مملوکہ جائیداد کا مکمل قبضہ اور تصرف کا حق بھی دے دیا تھا تو اب پوتے اس جائیداد کے مالک ہیں، اب یہ ملکیت ان پوتوں کے والد کی طرف منتقل نہیں ہوگی، البتہ اگر مذکورہ شخص نے وفات سے پہلےاپنی جائیداد اپنے پوتوں کو ہبہ کر کے مکمل قبضہ اور تصرف کے حق کے ساتھ حوالے نہیں کی تھی تو یہ ہبہ کامل نہیں ہوا تھا؛ اس لیے پوتے اس جائیداد کے مالک نہیں بنے تھے، لہٰذا مذکورہ شخص کے انتقال کے بعد اس کی جائیداد اس کا ترکہ شمار ہوگی اور اس کی وفات کے وقت موجود شرعی ورثہ کے درمیان میراث کے ضابطہ شرعی کے موافق تقسیم ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200112
تاریخ02-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں