بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حشیش (بھنگ) کی خرید و فروخت

سوال

حشیش (بھنگ) کی خرید و فروخت کا کیا حکم ہے؟

جواب

بھنگ  اور افیون نشہ کی غرض سے استعمال کرنا حرام ہے، دوا  کے طور پر جائز ہے، لہذا اس غرض سے اس کا بیچنا بھی جائز ہے۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 458):
"وعبارته: ومثل الحشيشة في الحرمة جوزة الطيب فقد أفتى كثير من علماء الشافعية بحرمتها، وممن صرح بذلك منهم ابن حجر نزيل مكة في فتاواه والشيخ كمال الدين بن أبي شريف في رسالة وضعها في ذلك، وأفتى بحرمتها الأقصراوي من أصحابنا، وقفت على ذلك بخطه الشريف، لكن قال: حرمتها دون حرمة الحشيش، والله أعلم اهـ".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200064
تاریخ30-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں