بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رخصتی کے پہلے ہی روز تعلق قائم کرنا /ولیمہ کی مدت

سوال

کیا رخصتی کے پہلے روز ہی بیوی سے قیام تعلق کرنا ضروری ہے؟ نیز ولیمہ کب تک کر سکتے ہیں؟  آج کل لوگ مہینوں بعد بھی کرتے ہیں، ان کے لیے حکمِ شرع کیا ہوگا ؟

جواب

1- رخصتی ہی کے روز بیوی سے ازدواجی تعلقات قائم کرنا ضروری نہیں، تاہم ولیمہ سے قبل تعلقات قائم کرلینا بہتر ہے۔ 

2- ’’ولیمہ‘‘  اس کھانے کو کہا جاتا ہے جو میاں بیوی کے  اکٹھا ہونے یعنی شبِ زفاف  کے بعد   کھلایا جاتا ہے، شبِ زفاف کے تیسرے دن تک حدیث شریف سے ولیمہ کا ثبوت ہے، اگر شبِ زفاف کے بعد پہلے دن انتظام ہوسکتا ہو تو سب سے بہتر پہلا دن ہے، تیسرے دن کے بعد ولیمہ کرنا فقط ضیافت شمار ہوگی۔

اگر مہمان زیادہ ہوں، یا کسی مقام کا عرف ایک ہی دفعہ ولیمہ منعقد  کرکے مہمانوں کو بلانے کے بجائے  یہ ہو  کہ یکے بعد دیگرے مہمان آتے ہوں اور کھا کر چلے جاتے ہوں تو مستقلاً تین دن تک بھی ولیمہ کا کھانا کھلایا جاسکتا ہے،  حضورِ اقدس ﷺ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح میں اسی طرح تین دنوں تک ولیمہ فرمایا ہے، الغرض ولیمہ ایک دن میں کر دیا جائے یا عرف کے مطابق مسلسل تین دنوں تک دونوں درست ہیں، لیکن مسلسل تین دن تک کھانا کھلانے میں یہ شرط ملحوظ رہے کہ اس میں دکھلاوا یا اسراف نہ ہو، بلکہ حسبِ استطاعت سنت کے اتباع کی نیت سے اس معاملے کو انجام دیا جائے۔ ایک حدیث میں ہے: ’’پہلے دن ولیمہ حق ہے، دوسرے دن نیکی ہے، اور (مسلسل) تیسرے دن سناوا اور دکھلاواہے‘‘۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200052
تاریخ30-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں