بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مغرب عشاء کے وقت میں ادا کرنا

سوال

ایک شخص نے مغرب کی نماز وقت میں شروع کی،  مگر سلام پھیرا تو وقت ختم ہو چکا تھا اور اس کے اندازے سے نماز کی مکمل ایک رکعت عشاء کے وقت میں پڑھی ہے، کیا یہ نماز قضا  کے لیے کافی ہو جائے گی؟

جواب

مذکورہ صورت میں نماز دہرانا لازم  نہیں ہے؛ اس لیے کہ نمازِ  مغرب کے بعد کوئی مکروہ وقت نہیں ہے۔

جمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 146):
"وإلى أنه لو شرع في الوقتية عند الضيق ثم خرج الوقت في خلالها لم تفسد". 
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200009
تاریخ29-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں