بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نوکری کے لیے رشوت دینے کا حکم

سوال

موجودہ حالات کےپیشِ نظرغریبوں کے لیے کسی سرکاری ادارے میں نوکری کے لیے رشوت دینے کے بارےمیں اسلام کیا کہتا ہے؟

جواب

رشوت لینے اور دینے والے پر حضورِ اکرم ﷺ نے لعنت  فرمائی ہے، اس لعنت والے کام  سےبہر صورت  بچنا ضروری ہے؛ لہٰذا مذکورہ طریقے پر سرکاری نوکری حاصل کرنا شرعاً درست نہیں۔ حق ثابت ہونے سے پہلے اسے حاصل کرنے کے لیے رشوت دینا بہرحال ناجائز ہے۔اور جب تک ملازمت مل نہیں جاتی تب تک یہ ثابت شدہ حق نہیں ہے؛ اس لیے متبادل کوئی حلال ذریعہ آمدن تلاش کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144104200005
تاریخ29-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں