بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کوئی شخص خود استنجا نہ کرسکتا ہو تو حکم

سوال

ایک شخص اگر خود استنجا نہ  کرسکتا ہو  تو اس کی اولاد یا کوئی اور شخص اس کو نماز کے لیے استنجا، وغیرہ کروا سکتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اصل حکم یہی ہے کہ والد صاحب کو پیشاب پاخانہ کرانے کی ذمہ داری ان کی اہلیہ اٹھائیں، اور اہلیہ کے نہ ہونے کی صورت میں مذکورہ کام کوئی مرد (خواہ وہ بیٹا ہو یا کوئی نوکر ) ادا کرے اور  والد صاحب خود اپنے ہاتھ سے استنجا کریں، کوئی غیر ان کا ستر نہ دیکھے، نہ ستر چھوئے۔  اور اگر وہ اتنے ضعیف ہیں کہ خود استنجا کرنے پر قادر نہ ہوں تو اس صورت میں استنجا کا حکم ساقط ہوجائے گا۔  البتہ اگر کوئی مرد استنجا کرانا چاہے تو اپنے ہاتھ پر کوئی کپڑا یا میڈیکل گلوز پہن کر کرائے، (جس سے اعضاءِ مستورہ  کا احساس نہ ہو) بغیر حائل کے ان کے ستر کو ہاتھ نہ لگائے۔ اہلیہ اور بیٹا یا کوئی خدمت گار مرد  نہ ہو تو بیٹی یا کسی خاتون کے لیے استنجا کرانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

جیساکہ فتاوی شامی میں ہے:

"الرجل المريض إذا لم تكن له إمرأة ولا أمة و له إبن او أخ و هو لا يقدر علي الوضوء، قال يوضئه إبنه أو أخوه غير الإستنجاء؛ فإنه لا يمس فرجه و يسقط عنه". (كتاب الطهارة، باب الأنجاس، فصل في الإستنجاء، ١/ ٣٤٠ - ٣٤١، ط: سعيد) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200003
تاریخ29-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں