بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خطبے کے دوران چہرہ دائیں بائیں کرنا

سوال

(1) امام کا دوران خطبہ ادھر ادھر منہ پھیرنا کیسا ہے؟

(2)  يا ربنا نفسي نفسي والا خطبہ پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

1: امام کا خطبہ کے دوران سامعین کی طرف دیکھنے کے لیے دائیں بائیں منہ پھیرنا درست نہیں ہے، البتہ سامنے بیٹھے ہوئے سامعین کو دیکھتے ہوئے تھوڑی سی نظر دائیں بائیں کرنا درست ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 149):
"ما يفعله بعض الخطباء من تحويل الوجه جهة اليمين وجهة اليسار عند الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم في الخطبة الثانية، لم أر من ذكره، والظاهر أنه بدعة ينبغي تركه لئلايتوهم أنه سنة. ثم رأيت في منهاج النووي قال: ولايلتفت يمينًا وشمالاً في شيء منها، قال ابن حجر في شرحه: لأن ذلك بدعة اهـ ويؤخذ ذلك عندنا من قول البدائع: ومن السنة أن يستقبل الناس بوجهه ويستدبر القبلة؛ لأن النبي صلى الله عليه وسلم كان يخطب هكذا اهـ".

2 : پورا خطبہ ارسال کرکے سوال کریں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200806
تاریخ30-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں