بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز پڑھنے والے کے قریب شور کرنا

سوال

جب کوئی نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے پاس شور مچایا جا رہا ہو اور باتیں کی جا رہی ہوں جس کی وجہ سے نماز سے دھیان ہٹ رہا ہو تو اس کے بارے میں اسلام ہمیں کیسے منع کرتا ہے؟ کیا یہ طریقہ کفار اپنایا کرتے تھے؟ کسی حدیثِ پاک یا قرآنی آیات کی روشنی میں بتا دیں!

جواب

نماز  اللہ تعالی کی اہم ترین عبادت ہے، اس لیے نماز پڑھنے والا ایسی نماز کے لیے ایسی جگہ کا انتخاب کرے جہاں یک سوئی سے نماز ادا کی جاسکے، اور جب نماز ادا کرنے والانماز اداکررہاہو  اور کچھ لوگ قریب میں ہوں تو انہیں نماز پڑھنے والے کی رعایت رکھتے ہوئے اپنی گفتگو دھیمے لہجے میں کرنی چاہیے؛ تاکہ نماز میں خلل نہ آئے۔ نما زکی اہمیت بتاکر شور کرنے والوں کو سمجھایاجائے۔

باقی اس حرکت کو کفار کی حرکت سے تشبیہ نہ دی جائے،  اسے ہم غفلت کہہ سکتے ہیں، کیوں کہ (بے شک کفار رسول اللہ ﷺ کی تلاوت اور مسلمانوں کی نمازوں کے وقت شو و غل کیا کرتے تھے، لیکن) کفار کا تو مقصد ہی قرآن کی آواز کو دبانا ہوتا تھا، جب کہ کسی مسلمان کا یہ عمل اس قصد وارادہ سے نہیں ہوتا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200796
تاریخ28-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں