بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک سے گاڑی لینا

سوال

کیا بینک کے ذریعے گاڑی لینا حرام ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ سود میں آتا ہے؛ کیوں کہ بینک والے آپ کو گاڑی اصل قیمت سے زیادہ دیتے ہیں اور اس میں انشورنس کے پیسے بھی لیتے ہیں جو کہ حرام ہے۔

جواب

جی ہاں! بینک کے ذریعہ گاڑی لینا حرام ہے ، بینک کے معاملات سود  سے خالی نہیں ہیں،  اس سے اجتناب لازم ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200795
تاریخ28-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں