بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈیوٹی کے اوقات میں کمی کرنے کی صورت میں تنخواہ کا حکم

سوال

میں پچھلے آٹھ سال سے عالمی ادارہ  صحت کے ساتھ  پولیو افسر کے عہدے پر کام کر رہاہوں۔ میں نے 2016 میں اس ادارے سے 2 اضافی ٹیم جسں سے بچوں کو و یکسین دیتے تھے، کی مد میں تقریباً کل 60000 روپے کچھ مہینوں تک تھوڑی تھوڑی رقم ادارے کو بتائے بغیر لی ہے، اور ان 8 سالوں میں ڈیوٹی میں کمی و بیشی بہت ہوئی ہے۔ اب کیا یہ رقم واپس کرنا ہو گی؟ اور ڈیوٹی کے درمیان کمی بیشی کی صورت میں کیا کرنا ہو گا؟

جواب

آپ نے غلط بیانی کر کے یا منتظمین کی اجازت کے بغیر دو اضافی ٹیم کے پیسوں کے نام پر  جو پیسے خود لیے ہیں ان پیسوں کا واپس کرنا آپ پر لازم ہے۔ اسی طرح ڈیوٹی کے اوقات اگر مقرر تھے تو ان اوقات میں جتنی کمی آپ کی طرف سے ہوئی ہے اس کے بقدر تنخواہ میں سے کاٹ کر واپس کرنا بھی آپ پر لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200769
تاریخ28-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں