بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دھوکا دے کر نوکری حاصل کرنے کی صورت میں تن خواہ کا حکم

سوال

اگر ایک شخص نوکری پانے کے لیے ٹسیٹ دیتا ہے،  مگر ٹیسٹ میں وہ کوئی فراڈ کرتاہے، مثلاً ٹیسٹ آؤٹ یا اس میں نقل کرتاہے تو کیا پھر اس نوکری پر جو معاوضہ ملتا وہ حلال ہے یا حرام؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص دھوکا دہی کے ذریعے نوکری حاصل کرلے تو  وہ گناہ گار ہوگا، جس پر سچے دل سے توبہ کرنا لازم ہوگا۔ تاہم اگر مذکورہ شخص میں اس نوکری کی اہلیت ہو، اور وہ اپنی ذمہ داری پوری ادا کرے تو اس صورت میں معاوضہ حلال ہوگا؛ کیوں کہ اجرت عمل کے عوض میں ہے۔

اور اگر نوکری حاصل نہ کی ہو تو مطلوبہ اہلیت موجود ہونے اور دیانت کے ساتھ مفوضہ ذمہ داری ادا کرنے کے ارادے کے باوجود دھوکا دے کر ملازمت کا حصول جائز نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200765
تاریخ28-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں