بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دورانِ غسل ناک سے خون آنا

سوال

دورانِ غسل اگر ناک میں پانی لگاتے وقت خون آجائے تو کیا اس غسل کو جاری رکھنا چاہیے؟

جواب

اگر غسل کے دوران ناک سے خون آ جائے اور خون کے رکنے کی امید ہو تو  بہتر یہ ہے کہ خون کے رکنے کا انتظار کر لیا جائے اس کے بعد غسل کر لیں، بہرحال!  خون کے آنے سے غسل پر کوئی فرق نہ آئے گا، غسل کو جاری بھی رکھا جا سکتا ہے، البتہ غسل مکمل کر لینے کے بعد بھی اگر خون جاری رہا تو غسل کرنے والا با وضو نہیں رہے گا، خون کے نکلنے کی وجہ سے وضو ٹوٹ جائے گا اور نماز پڑھنے کے لیے وضو کرنا لازم ہو گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200746
تاریخ27-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں