بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حافظ اور غیر حافظ میں سے کون امامت کرے؟

سوال

حافظِ  قرآن کی موجودگی میں غیر حافظِ قرآن (جس کی تجوید بھی صحیح نہ ہو) کا امامت کرانا کیسا ہے؟

جواب

اگر کسی ایسی جگہ امامت کرانی ہو جہاں امام مقرر نہ ہو اور دو آدمی علم میں بھی برابر ہوں تو ایسی صورت میں امامت کے لیے زیادہ مستحق وہ ہے جو قرآنِ پاک کو زیادہ بہتر تجوید سے پڑھتا ہو۔  نیز یہ بھی واضح رہے کہ یہاں امامت کے استحقاق کا معیار ’’تجوید سے قرآن کا پڑھنا‘‘  ہے نہ کہ  صرف ’’حافظ ہونا‘‘۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 557):
"(قوله: ثم الأحسن تلاوةً وتجويداً) أفاد بذلك أن معنى قولهم أقرأ: أي أجود، لا أكثرهم حفظاً وإن جعله في البحر متبادراً، ومعنى الحسن في التلاوة أن يكون عالماً بكيفية الحروف والوقف وما يتعلق بها، قهستاني".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200667
تاریخ25-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں