بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ آٹھ بیٹے اور ایک بیٹی میں تقسیم میراث

سوال

ورثہ میں ایک بیوی، آٹھ لڑکے، ایک لڑکی ہے۔  میراث کی تقسیم کس طرح ہوگی؟

جواب

حقوقِ متقدمہ نکالنے کے بعد یعنی میت کے ترکے  سےتجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد اگر میت کے ذمہ قرض ہو تو اس کی ادائیگی کے بعد اگر جائز وصیت کی ہو تو اس کو باقی ماندہ ترکہ کے ایک تہائی حصے میں نافذ کرنے کے بعد بقیہ ترکہ میں سے 12.5% بیوہ کو،  10.29% ہر بیٹے کو اور 5.14% بیٹی کو ملےگا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200666
تاریخ25-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں