بیوہ آٹھ بیٹے اور ایک بیٹی میں تقسیم میراث
سوال
ورثہ میں ایک بیوی، آٹھ لڑکے، ایک لڑکی ہے۔ میراث کی تقسیم کس طرح ہوگی؟
جواب
حقوقِ متقدمہ نکالنے کے بعد یعنی میت کے ترکے سےتجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد اگر میت کے ذمہ قرض ہو تو اس کی ادائیگی کے بعد اگر جائز وصیت کی ہو تو اس کو باقی ماندہ ترکہ کے ایک تہائی حصے میں نافذ کرنے کے بعد بقیہ ترکہ میں سے 12.5% بیوہ کو، 10.29% ہر بیٹے کو اور 5.14% بیٹی کو ملےگا۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144103200666
تاریخ25-11-2019

