بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کی آمدنی حلال نہ ہو

سوال

میرے والد بینک میں مینیجر ہیں۔ان کی آمدن حلال ہے یا حرام؟ میرے بارے میں  کیا حکم ہے؟

جواب

بینک کے معاملات سود پر مشتمل ہونے کی وجہ سے بینک میں ملازمت کرنا اور بینک سے تنخواہ وصول کرنا ناجائز  اور حرام ہے، لہذا اگر آپ عاقل بالغ ہیں اور اپنا ذاتی حلال مال موجود ہے تو آپ کے لیے والد کی حرام  آمدنی اور اس سے خریدی گئی اشیاء کو استعمال کرنا جائز نہیں ہے، اور اگر آپ کمانے پر قادر نہیں ہیں تو حلال مال کے حصول تک والد کی مذکورہ آمدن استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔

وفی القرآن الکریم :

(يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَاتَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ)[آل عمران:۱۳۰] 

ترجمہ: اے ایمان والو! نہ کھاؤ سود کئی گنا بڑھاکر، اور اللہ سے ڈرو؛ تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200644
تاریخ24-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں