بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا نابالغہ بچی کے مملوکہ سونے میں زکاۃ واجب ہے؟

سوال

 چھوٹی بچی اور ماں کا سونا ملا کر ساڑھے سات تولہ بنتا ہے تو کیا اس پر زکات واجب ہے؟ یا پھر بچی اپنے سونے کی مالک ہے اور اس کی مقدار ساڑھے سات تولہ سے کم ہے، ایسی صورت میں کیا بچی کے سونے زکات فرض ہے ؟

جواب

بچی جب تک بالغ نہیں ہوتی تب تک اس کے مملوکہ سونے میں زکاۃ واجب نہیں اور نہ ہی بچی کے مملوکہ سونے کو والدہ کے سونے کے ساتھ ملاکر نصاب پورا کیا جائے گا،  بلکہ والدہ کے مملوکہ سونے کا نصاب الگ شمار ہوگا۔

الفتاوى الهندية - (5 / 32):
"( وَمِنْهَا: الْعَقْلُ وَالْبُلُوغُ ) فَلَيْسَ الزَّكَاةُ عَلَى صَبِيٍّ وَمَجْنُونٍ إذَا وُجِدَ مِنْهُ الْجُنُونُ فِي السَّنَةِ كُلِّهَا، هَكَذَا فِي الْجَوْهَرَةِ النَّيِّرَةِ". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200628
تاریخ24-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں