بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غصب شدہ سامان کا استعمال

سوال

بندہ کچھ عرصہ ایک کارگو کمپنی کے ساتھ کام کر رہا تھا 2014 میں،  جہاں سے میں کچھ سامان اٹھا کر لایا تھا،  جس میں کمبل اور برتن وغیرہ شامل تھے، اس کے علاوہ اور بھی کچھ سامان شامل تھا۔اس پورے سامان کی مالیت انداز اً  15 یا 20 ہزار ہوگی۔  اب بندے کو اللہ نے توبہ کی توفیق دی تو نادم ہے۔

لہذا راہ نمائی کریں کہ بندے کو کیا کرنا چاہیے؟  کیوں کہ اس سامان کے اصل مالک کا بھی نہیں پتا  اور کچھ سامان زیر استعمال بھی ہے۔

جواب

جو سامان آپ نے کارگو کمپنی کااٹھایا اس  کے مالکان کا علم نہ ہونے کی صورت میں بغیر ثواب کی نیت کے اسے صدقہ کردیا جائے۔ اور اگر استعمال کرکے وہ ختم ہوچکا ہے تو اس کی قیمت ثواب کی نیت کے بغیر مستحقینِ زکات پر صدقہ کردی جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200627
تاریخ24-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں