میراث میں عینی اور علاتی بھائی کو دادا کی موجودگی میں حصہ ملنے یا نہ ملنے کے بارے میں مفتی بہ قول
سوال
بنوالاعیان اور بنوالعلات کو جد کے ساتھ حصہ ملنے اور نہ ملنے میں جمہور کے نزدیک کون سا قول مفتیٰ بہ ہے؟ امام صاحب رحمۃ اللہ کا قول جو تمام بھائیوں کو جد کی وجہ سے ساقط کردیتے ہیں یا صاحبین رحمہم اللہ کا جو ساقط نہیں کرتے؟ بالفاظ دیگر یہ(یرثون مع الجد) یہ صرف سراجی کا قول ہے یا باقی علماء کا بھی؟ نیز جمہور علماء کے اقوال سے آگاہ فرمائیں!
جواب
جس طرح عینی اور علاتی بھائی مرحوم کے والد کی موجودگی میں محجوب ہوتے ہیں، اسی طرح دادا کی موجودگی میں بھی محجوب ہوں،اس مسئلہ میں مفتی بہ قول امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا ہے۔(ملاحظہ ہو:فتاوی شامی 6/781، کتاب الفرائض، ط: سعید) فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

