بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مذاق میں قسم کھانا

سوال

مذاق میں قسم کھانے کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر کوئی شخص (آئندہ کسی کے کام کے کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے) مذاق میں قسم کے الفاظ استعمال کرتا ہے تو ان الفاظ سے بھی قسم منعقد ہو جائے گی، اس کے ذمہ اپنی قسم کو پورا کرنا لازم ہو گا اور قسم پوری نہ کرنے کی صورت میں کفارہ ادا کرنا لازم ہو گا۔

اور اگر مذاق میں کوئی ایسی قسم کھائی جس کا تعلق گزشتہ زمانے سے تھا اور مذاق میں بالقصد جھوٹی  قسم کھائی تو جھوٹی قسم کھانے کی وجہ سے سخت گناہ گار ہو گا،  لیکن اگر بلا ارادہ زبان پر  قسم کے الفاظ  جاری ہو گئے تو امید ہے کہ مؤاخذہ نہ ہو گا۔

الفتاوى الهندية (2/ 52):
"واليمين في الماضي إذا كان لا عن قصد لا حكم له في الدنيا، والآخرة عندنا".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200620
تاریخ24-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں