بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

"لفٹ" میں تنہا ہونے سے کیا خلوتِ صحیحہ متحقق ہوگی؟

سوال

زوجین کا لفٹ میں جانے سے حرمت ثابت ہوگی?

جواب

اگر آپ کے سوال کی مراد یہ ہے کہ کیا لفٹ میں ساتھ جانے سے خلوتِ صحیحہ ثابت ہو گی یا نہیں؟  تو اس کا جواب یہ ہے کہ لفٹ میں ساتھ ہونے سے خلوتِ صحیحہ ثابت نہیں ہو گی؛ اس لیے کہ خلوتِ صحیحہ کی تعریف یہ ہے کہ زوجین ایسی جگہ ہوں جہاں وطی سے کسی قسم کا کوئی مانع نہ ہو، اور لفٹ ایسا مقام نہیں جہاں وطی کے لیے کوئی مانع نہ ہو، بلکہ اس کے کسی بھی وقت کھلنے کا اور کسی شخص کے داخل ہونے کا امکان موجود ہوتا ہے، لہذا لفٹ میں ساتھ ہونے سے خلوتِ صحیحہ نہیں ہو گی۔

الموسوعة الفقهية الكويتية (19/ 270):
" الخلوة التي يترتب عليها أثر هي الخلوة الصحيحة كما يقول الحنفية، أو خلوة الاهتداء كما يطلق عليها المالكية.
وهي عند الحنفية التي لايكون معها مانع من الوطء، لا حقيقي ولا شرعي ولا طبعي". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200619
تاریخ24-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں