بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی نے ساری زندگی اقرار باللسان نہیں کیا

سوال

ایک شخص مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا اور ساری زندگی اقرار باللسان نہیں کیا، اور مر گیا, کیا وہ شخص مسلمان ہے؟

جواب

ایمان کی حقیقت ’’تصدیقِ قلبی‘‘ ہے، اور اقرار باللسان تصدیقِ قلبی کی علامت اور اسلامی اَحکام جاری کرنے کے لیے شرط ہے،  لہٰذا اگر  کوئی شخص مسلمان گھرانے میں پیدا ہو اور   کبھی کوئی کفریہ قول وفعل صادر نہ ہوا ہو  اور دل میں ایمان موجود ہو تو عند اللہ یہ شخص مسلمان شمار ہوگا، البتہ دنیا میں مسلمانوں والے اَحکام(مثلاً جنازہ پڑھنا اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ودیگر  مسلمانوں کے ساتھ مخصوص اَحکام)جاری کرنے کے لیے کم سے کم ایک مرتبہ اقرار بالسان ضروری ہے۔

"إنه هو التصدیق بالقلب، وإنما الإقرار شرط لإجراء الأحکام في الدنیا من حرمة الدم والمال وصلاة الجنازة علیه ودفنه في مقابر المسلمین ... فمن صدق في قلبه ولم یقر بلسانه فهو مؤمن عند اﷲ سبحانه وإن لم یکن مؤمناً في أحکام الدنیا‘‘۔  (نبراس،شرح ’’شرح عقائد‘‘،ص:۵۲۰،مولانا عبدالعزیز پرہاڑیؒ)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144103200612
تاریخ24-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں